”سچائی“…(انگریزی: Sachai)(ہندی:सच्चाई) پاکستان میں بننے والی ابتدائی اردو بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی، جسے ملک کے معروف فلم ساز، ہدایت کار اور اداکار نذیر نے تیار کیا۔ یہ فلم 13 مئی 1949ءکو ملک بھر کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ اس فلم کو پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ قیام پاکستان کے بعد نذیر کی پہلی فلم تھی اور فلمی صنعت کے ابتدائی دور کا اہم سرمایہ تصور کی جاتی ہے۔
پس منظر
نذیر، جو قیام پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان کی فلمی صنعت میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے تھے، خاموش فلموں کے دور سے لے کر 1947ءتک درجنوں فلموں میں اداکاری اور ہدایت کاری کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ نذیر نہ صرف اداکار اور ہدایت کار تھے، بلکہ کئی فلموں کے شریک پروڈیوسر بھی رہے۔ 1947ءکے بعد انہوں نے لاہور میں اپنا ذاتی فلمی ادارہ ”انیس پکچرز “ قائم کیا، جس کے تحت پاکستان میں ان کی پہلی فلم ”سچائی“ بنائی گئی۔
"سچائی” پر Video Review دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں، اورچینل بھی سبسکرائب کیجئے
پروڈکشن اور عملہ
فلم”سچائی“کی پروڈیوسر نذیر کی اہلیہ سعیدہ بانو تھیں، جو فلمی دنیا میں سورن لتا کے نام سے مشہور تھیں۔ہدایت کاری نذیر کے ساتھ مرتضیٰ جیلانی نے بھی سرانجام دی، جبکہ کہانی اور مکالمے چودھری سلطان احمد نے تحریر کیے۔ فلم کے نغمات تنویراحمد نقوی، ظفر میر اور چودھری سلطان احمد نے تخلیق کیے، جنہیں مقبول موسیقار جی اے چشتی نے موسیقی دی۔ فلم کی عکاسی کے فرائض جعفر شاہ بخاری نے انجام دیے، جو اس دور کے نمایاں کیمرہ مین سمجھے جاتے تھے۔
کہانی
”سچائی“کی کہانی سے متعلق مستند اور مکمل معلومات دستیاب نہیں، تاہم فلمی مورخین کے مطابق اس فلم کی کہانی 1943ءمیں نذیر ہی کی بنائی ہوئی بھارتی فلم ”چھیڑ چھاڑ“ (انگریزی نام: Sweet Lie) سے متاثر تھی، جسے بعض ذرائع پاکستان کی فلمی تاریخ کی پہلی "چربہ فلم” بھی قرار دیتے ہیں۔
نذیر کی نجی زندگی کا افسوسناک پہلو
فلم ”چھیڑ چھاڑ “ میں نذیر کے مقابل معروف نیپالی نژاد اداکارہ ستارہ تھیں، جن سے نذیر نے شادی بھی کی تھی۔ بعد ازاں فلم ساز کے آصف (ہدایت کار مغل اعظم) جو نذیر کے بھانجے تھے، ستارہ کو اپنے ساتھ اڑالے گئے، جس کے باعث نذیر نے ستارہ کو طلاق دے دی اور بعد میں سورن لتا سے شادی کی۔
مرکزی خیال
”سچائی“ کا مرکزی خیال انسانی رشتوں، سچ اور جھوٹ، محبت اور فریب پر مبنی تھا، جسے سماجی پس منظر میں فلمایا گیا۔
کاسٹ
فلم کی مرکزی کاسٹ درج ذیل فنکاروں پر مشتمل تھی:
*– سورن لتا
*– نذیر
*– اختری
*– مجید
*– نادرہ
*– چودھری سلطان
*– مایا دیوی
*– آزاد
*– عائشہ
*– زہرا صدیقی
موسیقی
فلم میں کل 10 گیت شامل کیے گئے، جن کے نغمہ نگار تنویراحمد نقوی، ظفر میر اور چودھری سلطان احمد تھے، جبکہ موسیقی جی اے چشتی نے دی۔ گلوکاروں میں منور سلطانہ اور عنایت حسین بھٹی شامل تھے۔ بدقسمتی سے فلم کے گیت عوامی سطح پر مقبول نہ ہو سکے۔
گیت:
1- دل کو راحت نہیں، قرار نہیں،میرے گلشن میں اب بہار نہیں…(منور سلطانہ)
2- میرے دل کی تمنا تم ہو،میرے پیار کی دنیا تم ہو…(عنایت حسین بھٹی)
3- تیرے بغیر تیرے سہاروں کو کیا کروں…(منور سلطانہ)
4- تو پاس نہیں ہے، جیتی ہوں کہ مرتی ہوں یہ احساس نہیں …(منور سلطانہ)
5- او چھوڑ جانے والے، دل توڑ جانے والے ، بیمار کی خبر لے…(منور سلطانہ)
6- کسی کا نہیں ہے یہ ظالم زمانہ، جہاں جرم ہوتا ہے…(منور سلطانہ)
7- بھولنے والے! بھول گیا تومیری وفائیں اپنی جفائیں…(منور سلطانہ)
8- یہ ظالم زمانہ نہ تیرا نہ میرا،بنانا پڑا بجلیوں میں …(عنایت حسین بھٹی)
9- آواز کسی کی آئی، یہ کون گا رہی تھی یہ غم کے راگ آخر…(؟)
10- وہ پیار کا میلہ ختم ہوا، اک کھیل تھا کھیلا ختم ہوا…(؟)
ریلیز اور کامیابی:
سچائی 13 مئی 1949ءکو ملک بھر میں بیک وقت نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ لاہور کے کیپیٹل سینما میں یہ فلم 10 ہفتے تک نمائش پذیر رہی، جب کہ کراچی میں صرف 4 ہفتے چل سکی۔ تجارتی لحاظ سے فلم کی کامیابی معتدل رہی، تاہم یہ فلم پاکستان کی فلمی صنعت کے ابتدائی دور کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
اہمیت:
سچائی فلم، نذیر کی پاکستان میں بطور ہدایت کار اور اداکار پہلی کاوش تھی۔ اگرچہ فلم تجارتی سطح پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکی، لیکن یہ پاکستان کی فلمی صنعت کے ارتقائی سفر میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم کے ذریعے نذیر اور سورن لتا نے پاکستان میں اپنی نئی فلمی زندگی کا آغاز کیا، جو بعد ازاں کئی دہائیوں تک جاری رہا۔
حوالہ جات:
1-”پاکستانی سینما کی آدھی صدی“ از یاسین گوریجہ
2-غیر مطبوعہ ریکارڈ از شاہد پردیسی
3-”پاکستانی اردو فلمی گیتوں کا سفر“ از فیاض احمد اشعر
Filmpedia – Pakistani Film Sachai 1949.
