”ہچکولے“ …(انگریزی: Hichkolay)(ہندی:हिचकोले) پاکستان میں بننے والی ایک ابتدائی اردو رومانوی فلم تھی، جو 1950ءکے عشرے میں ریلیز ہوئی۔ یہ فلم بلیک اینڈ وائٹ فارمیٹ میں بنائی گئی تھی اور اسے لاہور کے فلم ساز ادارے شیخ پکچرز کے بینر تلے تیار کیا گیا۔
تعارف
ہچکولے فلم کے پروڈیوسر شیخ محمد حسین تھے، جن کا تعلق مصری شاہ لاہور سے تھا اور وہ وہاں چمڑے کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بطور فلم ساز یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔
فلم کے ہدایت کار داﺅد چاند تھے، جبکہ کہانی، مکالمے اور نغمات کا تخلیق کار معروف شاعر سیف الدین سیف تھے۔ سکرین پلے شکور قادری نے تحریر کیا،موسیقار ماسٹر عنایت حسین اور عکاس اے حمید تھے۔
کاسٹ
فلم کی نمایاں کاسٹ میں درج ذیل فنکار شامل تھے:
*–ہیروئن نجمہ نے بطور ہیروئن ایک دیہاتی دوشیزہ کا کردار ادا کیا اور عمدہ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ اس سے قبل ہندوستانی فلموں میں بھی بطور ہیروئن کام کرچکی تھیں۔
*– ہیرو سدھیر، جو 1947ءکی انڈین فلم ”فرض “میں بھی راگنی کے مقابل ہیرو رہ چکے تھے، نے اس فلم میں بطور گلوکار رومانوی کردار ادا کیا، تاہم وہ اس میں بھرپور کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ بعد ازاں انہیں پنجابی فلموں میں بے پناہ شہرت ملی۔
*–اختری ،جو قبل ازیں چند ایک انڈین فلموں میں کام کر چکی تھی، نے ”ہچکولے“ میں ایک نرس کا نہایت ہمدردانہ رول کیا، جس میں وہ خاصی کامیاب رہی۔
*–اجمل نے ایک ڈاکٹر کے کردارنہایت شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا، اس کے جذبات اس کی پیشانی سے جھلکتے نظر آئے۔
*–ایم اسماعیل کے کردار میں سنجیدگی اور شوخی کا امتزاج بھی تماشائیوں کو بہت پسند آیا۔
*–نفیس بیگم
*–جانباز مرزا
*– عقیل
*–عاشق حسین سمراٹ
*–نذر
*–موہنی داس، یہ اس زمانے کی معروف و مقبول ریڈیو صدا کار تھیں،یاد رہے کہ یہ وہی موہنی داس ہیں، جنہوں نے 1954ءمیں معروف رائٹر و ادیب اے حمید سے شادی کر لی اور اس کے بعد موہنی حمید کے نام سے شہرت پائی، وہ اپنے ایک ریڈیو پروگرام کے حوالے سے آپا شمیم کے نام سے بھی جانی جاتی تھیں۔
"ہچکولے” پر Video Review دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں، اور چینل سبسکرائب و لائک کیجئے۔
کہانی
فلم ہچکولے کی مکمل کہانی محفوظ نہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ ایک دیہاتی ماحول میں بننے والی رومانوی فلم تھی، جس میں محبت کے موضوع کو خصوصی طور پر فلمایا گیا اور اس کے تمام نشیب و فراز کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ مکالموں میں سیف الدین سیف نے شستگی اور ادبی چاشنی کا خوب اہتمام کیا۔
موسیقی
فلم کی موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی، جو اس سے قبل 1946ء میں متحدہ ہندوستان کی پنجابی فلم کملی کی موسیقی دے چکے تھے۔ پاکستان میں ہچکولے ان کی پہلی فلم تھی، جس کی دھنیں خاصی مقبول ہوئیں۔
گیت
فلم میں مجموعی طور پر 9 گیت شامل تھے۔ جن کے بول کچھ یوں ہیں:
1- میں پیار کا دیا جلاتا ہوں، تو چپکے چپکے آجا — (گلوکار: علی بخش ظہور)
2- اے دل میں کیا کروں، میرے ارمان لٹ گئے — (گلوکارہ: نسیم اختر)
3- دل توڑ کے چلے تو نہیں جاؤ گے —(منور سلطانہ، علی بخش ظہور)
4- تڑپائیں گے ہم دل کو، آنکھوں کو رلائیں گے —( منور سلطانہ)
5- ماتھے پہ جھومر سہائے، دلہن تیرا جوبن دیکھا نہ جائے —(نسیم اختر، سلمیٰ بیگم و ساتھی )
6- سامنا ہو گیا قیامت کا، لو جنازہ چلا محبت کا —(علی بخش ظہور )
7- کہو یہ کس نے آنکھ ملائی، جوانی جھوم جھوم لہرائی —(اقبال بیگم لائل پوری )
8- کیا حال ہے اب دل کا، میں دکھلا نہیں سکتی —(منور سلطانہ )
9- جسے دیکھو وہی دشمن ہے —(منور سلطانہ )
فلم کا سب سے مقبول گیت علی بخش ظہور کی آواز میں "میں پیار کا دیا جلاتا ہوں، تو چپکے چپکے آجا” تھا۔ اس گیت کی کمپوزیشن پر بھارت کے مشہور موسیقار نوشاد نے ماسٹر عنایت حسین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خط بھی تحریر کیا۔
باکس آفس رپورٹ:
یہ فلم لاہور کے پیلس سینما پر6 مئی 1949ءکو نمائش کے لئے پیش کی گئی ، یہاں 6 ہفتے چلی اور بری طرح فلاپ ہوئی۔جبکہ کراچی سے متعلق اس فلم کی غیر مصدقہ رپورٹ یہ ہے کہ یہاں اس کی نمائش اسی سال لاہور سے پہلے 11 مارچ کو نشاط سینما میں ہوئی اور یہاں بھی صرف 5ہفتے چلی۔
حوالہ جات
1-روزنامہ امروز لاہور، 13مئی 1949ء
2- ہفت روزہ چٹان لاہور،23مئی 1949ء
3-” فلمی تبصرے“ از شوکت علی چھینہ
4-”پاکستانی سینما کی آدھی صدی“ از یاسین گوریجہ
5-غیر مطبوعہ ریکارڈ از شاہد پردیسی
6-”پاکستانی اردو فلمی گیتوں کا سفر“ از فیاض احمد اشعر
Filmpedia – Pakistani Urdu Film Hichkolay 1949
