شاہدہ ۔۔۔( فلم )

”شاہدہ“ …(انگریزی: Shahida)(ہندی:शाहिदा) پاکستان کی فلمی تاریخ کی دوسری ریلیز ہونے والی فلم تھی، جو 18 مارچ 1949ءکو نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ یہ فلم لاہور کے فلم ساز ادارے” انڈو امریکن فلمز لمیٹڈ“ کے بینر تلے تیار کی گئی۔ فلم کی ہدایت کاری لقمان نے کی جبکہ کہانی، مکالمے اور نغمے اردو ادب کے معروف ادیب حکیم احمد شجاع پاشا نے تحریر کیے۔

یہ فلم قیام پاکستان کے بعد بننے والی پہلی مسلم سوشل فلم قرار دی جاتی ہے جس کا موضوع معاشرتی استحصال، طبقاتی کشمکش اور جاگیردارانہ نظام کی مذمت پر مبنی تھا۔

پس منظر
1946ءمیں معروف ادیب اور فلمی شخصیت حکیم احمد شجاع پاشا، اداکار سدھیر کے ماموں اکبر خان لودھی، ہدایت کار فضل شاہ اور دیگر نے مل کر انڈو امریکن فلم لمیٹڈ کے نام سے فلمی ادارہ قائم کیا۔ ابتدا میں اس ادارے نے "شفق” کے نام سے فلم بنانے کا ارادہ کیا جس کے پروڈیوسر حمید اللہ خان اور ہدایت کار فضل شاہ تھے جبکہ موسیقی کی ذمہ داری ماسٹر غلام حیدر کے سپرد تھی۔

1947ءکے فسادات کے باعث فلم سازی تعطل کا شکار ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد حالات بہتر ہوئے تو "شفق” کی کہانی کو "شاہدہ” کے نام سے بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی دوران پروڈیوسر حمید اللہ خان کا انتقال ہو گیا اور ان کی جگہ ایم اکبر شاہ نے سنبھالی۔ہدایت کار فضل شاہ بھی ایک حادثے کا شکار ہو گئے، جس کے بعد فلم کی ہدایت کاری لقمان کو دی گئی۔

کاسٹ:
فلم کے مرکزی کرداروں کے لئے ناصر خان کو ہیرو لیا گیا (جو اس سے پہلے ”تیری یاد“ میں بھی بطور ہیرو پیش ہوئے تھے)، جبکہ ہیروئن کا رول اداکارہ شمیم نے کیا، جو متحدہ ہندوستان کی فلموں میں شمیم بانو کے نام سے ایک معروف ہیروئن تھیں۔
فلم کے دیگر اداکاروں میں شاکر،نفیس بیگم،ایس بانو،ہمالیہ والا،جی این بٹ،خلیل آفتاب ،ممتاز جہاں ،بیگم پروین اور بے بی شمشادکے نام قابلِ ذکر تھے۔
اس فلم میں ایک کردار کے لئے گلوکارہ فریدہ خانم کو بھی لیا گیا لیکن وہ کیمرہ کے سامنے ٹھہر نہ سکی ،پھر اسی کی جگہ بیگم پروین کو سائن کیا گیا۔۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ فلم میں ایک ننھی بچی کے کردار کے لئے صبیحہ خانم ، جس کا نام اس وقت بے بی مختار تھا اور ایک لڑکی بے بی شمشاد کا ٹیسٹ لیا گیا ، جن میں بے بی شمشاد سیلیکٹ ہوئی، اور یہی بے بی شمشاد آگے چل کر پاک فلم انڈسٹری میں معروف ہیروئن شمی کے نام سے جانی گئی۔

"شاہدہ” پر Video Review دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں، ویڈیو پسند آئے تو چینل کو سبسکرائب بھی کیجئے

کہانی:
"شاہدہ” ایک جاگیردار، ایک حکیم اور اس کے خاندان، اور ایک نوجوان شاعر کے گرد گھومتی کہانی ہے۔ جاگیردار حکیم کی بیٹی پر فریفتہ ہوتا ہے اور دولت کے بل بوتے پر اسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ادھر حکیم اپنی بیٹی کا رشتہ اس نوجوان سے طے کرنا چاہتا ہے جو جاگیردار کے ملازم کی حیثیت سے اس کے پاس شاعری کی اصلاح کے لیے آتا ہے۔

نوجوان کی ماں اس کی شادی دولت مند خاندان میں کرنا چاہتی ہے، مگر نوجوان انکار کر دیتا ہے۔ جاگیردار حکیم پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قید کرا دیتا ہے اور زبردستی شادی کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن شادی کے روز جاگیردار کا ضمیر جاگتا ہے اور وہ خودکشی کر لیتا ہے۔ وصیت میں اپنی جاگیر کا کچھ حصہ حکیم کی بیٹی کے نام کرتا ہے اور اس کی شادی نوجوان شاعر سے کرنے کی وصیت کرتا ہے۔

فلم کی تیاری اور ریکارڈنگ:
فلم کا پہلا مکالمہ–”اے اللہ! میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے“– 16 فروری 1948ءکو پنچولی سٹوڈیو نمبر 1 لاہور میں ریکارڈ ہوا، اور یہ مکالمہ فلم کی ہیروئن شمیم پر فلمایا گیا۔

موسیقی:
فلم کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر اور جی اے چشتی کی تھی،ابتدائی 6گیتوں کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی اور وہ بھارت چلے گئے ، جبکہ باقی 2گیتوں کی موسیقی جی اے چشتی نے مرتب کی، لیکن پھرماسٹر جی کی بھارت روانگی کے باعث فلم کے تمام گراموفون ریکارڈز پر جی اے چشتی کا نام درج کیا گیا۔ پس پردہ موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی، جبکہ عکاس احمد اللہ اجمیری تھے۔

گیت:
فلم میں کل 8 گیت شامل تھے، جن کے نغمہ نگار حکیم احمد شجاع پاشا تھے، جو یہ ہیں:
-1- یہ کمبخت دو دل بھی ملنے نہ پائے میرے چاک
-2- دربدر پھرتے ہیں ہم کو پوچھتا کوئی نہیں
-3 -دنیا سے جو مٹا ہے، ہمارا نشاں نہ ہو
-4-الوداع الوداع! پیارے وطن الوداع!
-5 -پردے پردے میں یہ اس ظالم نے رسوا کر دیا
-6 -کبھی تم خواب میں بھی صورت دکھا جاتے تو کیا ہوتا
-7- یہ بھی کوئی انصاف ہے؟ اے صاحبِ انصاف!
-8- کب تک نہ سنی جائے گی فریاد ہماری، دنیا یہ خدا کی ہے

معاوضہ:
ہدایت کار لقمان کے مطابق فلم کی کاسٹ کا مجموعی معاوضہ 30 ہزار روپے تھا:
ناصر خان: 4 ہزار روپے
شمیم: 7 ہزار روپے
ہمالیہ والا: 6 ہزار روپے
شاکر: 4 ہزار روپے
بیگم پروین: 1500 روپے
نفیس بیگم: 1200 روپے
شمّی: 75 روپے روزانہ

نمائش اور کامیابی
فلم شاہدہ نے لاہور کے کیپیٹل سینما میں 6 ہفتے اور پلازہ سینما میں ایک ہفتہ چل کر مجموعی طور پر 7 ہفتے بزنس کیا۔ کراچی میں یہ فلم 4 ہفتے تک نمائش پذیر رہی۔
دلچسپ طور پر اس فلم نے بھارت کے شہروں دہلی اور لکھنو¿ میں سلور جوبلی منائی، جہاں اسے فلم ساز ادارے” شعاعِ نور پروڈکشن“ کے تحت ریلیز کیاگیا۔

تنازعہ اور اعزاز
ہدایت کار لقمان نے طویل عرصے تک یہ دعویٰ کئے رکھا کہ ان کی فلم”شاہدہ” پاکستان کی پہلی پروڈکشن ہے۔ حکومتی اداروں میں اثرورسوخ کے باعث وہ یہ مو¿قف منوانے میں کامیاب بھی ہو گئے، جس پر انہیں حکومت کی جانب سے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، حالانکہ حقیقت میں پاکستان کی پہلی ریلیز ہونے والی فلم "تیری یاد” تھی۔

اہمیت
"شاہدہ” نہ صرف پاکستان کی ابتدائی فلموں میں شامل ہے بلکہ پہلی مسلم سوشل فلم بھی مانی جاتی ہے جس میں معاشرتی اور طبقاتی کشمکش کا احاطہ کیا گیا۔ جدید تعلیم یافتہ مسلم لڑکی کا کردار مثبت روشنی میں پیش کرنے کا کریڈٹ بھی اسی فلم کو دیا جاتا ہے۔

حوالہ جات:
-1 -روزنامہ امروز لاہور،26مارچ 1949ء
-2-”فلمی تبصرے“ از شوکت علی چھینہ
-3-انٹرویو ہدایت کار لقمان ( ہفت روزہ ”مصور“ لاہور ،5مارچ 1949ء)
-4-”پاکستانی سینما کی آدھی صدی“ از یاسین گوریجہ
-5-غیر مطبوعہ ریکارڈ از شاہد پردیسی
-6-”پاکستانی اردو فلمی گیتوں کا سفر“ از فیاض احمد اشعر

1949’Filmpedia_Pakistani First Muslim Social Film/Movie `Shahida

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے