پاکستان اس وقت بے شمار مسائل کا شکار ہے — معیشت کمزور، روزگار محدود، صنعتیں دم توڑتی ہوئی، زراعت سست روی کا شکار اور آبادی کا بے تحاشا بوجھ بڑے شہروں پر۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت اگر کچھ بھی نہ کرے، صرف دو بنیادی کام مکمل کر دے تو نہ صرف ملک کا معاشی پہیہ دوڑنے لگے گا بلکہ عوام کی زندگی میں بھی خوشحالی آ جائے۔
پہلا کام: بجلی بحران کا مستقل حل
پاکستان کی معیشت کی سب سے بڑی رکاوٹ اس وقت بجلی کا بحران ہے۔ آئے روز لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، مہنگی بجلی اور بجلی چوری جیسے مسائل نے صنعت، زراعت، کاروبار اور گھریلو زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔
اگر حکومت صرف بجلی کی سستی، وافر اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنا دے تو:
*نئی صنعتیں لگیں گی۔
*موجودہ فیکٹریاں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ چلیں گی۔
*زرعی ٹیوب ویل، کولڈ اسٹوریج اور واٹر مینجمنٹ سسٹم بہتر ہوں گے۔
*آن لائن کاروبار اور IT فری لانسنگ کو فروغ ملے گا۔
*سیاحت، ہوٹلنگ اور چھوٹے کاروبار آباد ہوں گے۔
بجلی کے بحران کا مستقل حل ملک کو معاشی غلامی سے آزاد کر سکتا ہے۔ ہائیڈرو پاور، سولر، ونڈ اور دیگر ماحول دوست منصوبے اس ضمن میں قابلِ عمل متبادل ہیں۔
دوسرا کام: دور دراز علاقوں تک سڑکوں کا جال
دوسرا سب سے اہم کام جس پر حکومت کو فوکس کرنا چاہیے، وہ دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں تک معیاری سڑکوں کا جال بچھانا ہے۔
آج بھی پاکستان کے ہزاروں دیہات، قصبے اور علاقے ایسے ہیں جو ناقص یا نہ ہونے کے برابر سڑکوں کی وجہ سے ترقی کے سفر میں شامل نہیں ہو سکے۔ اگر حکومت صرف ان علاقوں تک سڑکیں بنا دے تو:
*صنعت کار وہاں کارخانے لگائیں گے۔
*مقامی لوگوں کو اپنے علاقے میں روزگار ملے گا۔
*بڑے شہروں کی طرف ہجرت کا رجحان کم ہو گا۔
*صحت اور تعلیم کی سہولیات آسانی سے پہنچائی جا سکیں گی۔
*زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں آسانی ہو گی۔
چند علاقے جو خصوصی توجہ کے مستحق ہیں:
جنوبی پنجاب: راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ
سندھ: تھرپارکر، عمرکوٹ، دادو
بلوچستان: خضدار، آواران، پنجگور، دالبندین
خیبر پختونخوا: جنوبی وزیرستان، کرم ایجنسی، کوہستان
گلگت بلتستان: دیامر، گانچھے، استور
یہ وہ علاقے ہیں جہاں روزگار کی کمی، انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور محرومی کی بدترین مثالیں قائم ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھا کر ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا اگر موجودہ یا آنے والی کوئی بھی حکومت صرف دو کام — بجلی بحران کا مستقل خاتمہ اور سڑکوں کا جال بچھانے — پر دلجمعی سے کام کر لے تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔ باقی تمام مسائل ازخود بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
بجلی ہو گی تو صنعت، زراعت اور تجارت چلے گی۔ سڑک ہو گی تو فیکٹریاں لگیں گی، مال منڈیوں تک پہنچے گا، لوگ بڑے شہروں کا رخ نہیں کریں گے اور معیشت مستحکم ہو گی۔
ہمیں فضول دعوؤں اور طویل تقریروں کی نہیں، بس ان دو بنیادی کاموں کی اشد ضرورت ہے۔ یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
