ایران نے میزائل حملے جاری رکھے تو تہران آگ کے شعلوں کی نذر ہو جائے گا، اسرائیلی وزیر دفاع
واشنگٹن ،تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی جانب سے جوابی حملے میں گزشتہ رات سے اب تک تقریباً 200 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغے جانے کے بعد اسرائیل نے فوج کو کارروائی کے لیے فری ہینڈ دے دیا جس کے بعد تازہ اسرائیلی حملے میں مزید 2 جنرلز، 3 جوہری سائنسدانوں اور 20 بچوں سمیت 65 ایرانی شہری شہید ہوگئے جب کہ مزید کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے مزید شدت اختیار کرلی ہے، ایران نے ہفتہ کی صبح اسرائیل پر پانچواں بڑا میزائل حملہ کیا، تازہ حملے میں درجنوں میزائل داغے گئے، ایران کی جانب سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں میزائلوں کی بارش کی گئی۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں 4 اسرائیلی ہلاک اور 63 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جب کہ صہیونی ریاست کے 2 جدید ترین ایف 35 اسٹیلتھ جنگی طیارے بھی مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکوں کی آوازیں تل ابیب، یروشلم اور گش دان میں سنی گئیں جس سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ تل ابیب میں اسرائیلی جوہری تحقیقی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 3 میں اسرائیل میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسرائیل پر 300 سے زائد میزائل داغے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے 200 بیلسٹک میزائل داغے ہیں جن میں سے متعدد کو فضا میں ہی ناکارہ کر دیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل تل ابیب میں مختلف مقامات پر گرے، جن میں ایک اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت بھی شامل ہے۔ جبکہ گش دان میں بھی دو ایرانی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔ حملے کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل میں درجنوں اہداف پر جوابی حملے شروع کردیے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا بدلہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمارے کمانڈروں، سائنسدانوں اور شہریوں کے قتل کا خمیازہ اسرائل بھگتنا پڑے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیئر عہدیدار نے مزید کہا کہ اب اسرائیل کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ہمارا انتقام نہایت تکلیف دہ ہوگا۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چند گھنٹوں کی خاموشی کے بعد اسرائیل کو دوبارہ سے 100 بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کی جانب سے داغے ڈرونز اور میزائلوں کو دوبارہ فضا میں ناکام بنادیا ہے۔
اسرائیل کے ریسکیو ادارے نے کم از کم 7 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
ایران کے جوابی حملے کے بعد اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی اصفہان نیوکلیئر سائٹ پر حملہ کر کے اہم تنصیبات اور لیبارٹریز کو تباہ کر دیا ہے، کارروائی کے دوران مزید 2 ایرانی جنرل کو بھی مار دیا گیا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے میزائل حملے جاری رکھے تو پھر تہران ’آگ کے شعلوں کی نذر ہو جائے گا‘۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایران کی جوہری تنصیبات اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے 6 جوہری سائنسدان مارے گئے ہیں جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر خاص کمانڈر علی شمخانی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں اس کے متعدد جوہری سائنسدان شہید ہوئے جن میں عبدالحمید منوچہر، احمد رضا زلفگاری، سید امیر حسین فقہی، موطبلی زادہ، محمد مہدی تہرانچی اورفریدون عباسی شامل ہیں۔
