باجوڑ میں بم حملہ: اسسٹنٹ کمشنر سمیت 5 سرکاری افسران شہید، 11 زخمی

سرکاری افسران معمول کی ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکہ ہو گیا:ضلعی انتظامیہ

باجوڑ (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں منگل کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں سرکاری افسران کی گاڑی کو سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں اسسٹنٹ کمشنر فیصل سلطان سمیت پانچ سرکاری افسران شہید اور 11 زخمی ہو گئے۔

باجوڑ کا خونیں دھماکہ: سکیورٹی غفلت کی قیمت کب تک ادا کریں گے؟
(شوکت علی چھینہ کا کالم "ذاتی رائے")

ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سرکاری افسران ایک معمول کی ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا۔ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کالعدم تنظیمیں ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔

وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ادھر، مقامی افراد اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حملے روکے جا سکیں۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس پر عوامی حلقے شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے