پاکستان اور چین میں3.7 ارب ڈالر قرضوں کے معاہدے، زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ

زرمبادلہ کے ذخائر 8.9 ارب ڈالر کی کمزور سطح سے دوبارہ 12.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور چین کے 3.7 ارب ڈالر کے مساوی کمرشل قرضوں کے اہم معاہدے طے پا گئے، جس کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8.9 ارب ڈالر کی کمزور سطح سے دوبارہ 12.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، ان معاہدوں پر گزشتہ ہفتے دستخط کیے گئے جن میں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (ICBC) اور بینک آف چائنا کی جانب سے 1.6 ارب ڈالر کے قرض شامل ہیں، جو مالی سال کے آخری دن تک پاکستان کو موصول ہو جائیں گے۔ اس پیش رفت سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ وعدے کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحٰق ڈار نے نائب وزیراعظم کی حیثیت سے وزارت خزانہ کی درخواست پر چینی حکام کے ساتھ پسِ پردہ سفارتی رابطے کیے، جن کے نتیجے میں تین چینی کمرشل بینکوں کے کنسورشیم سے 2.1 ارب ڈالر (تقریباً 15 ارب آر ایم بی) کا قرض ری فنانس کیا گیا۔

بتایا گیا کہ یہ قرض آر ایم بی کرنسی میں جاری کیا گیا، جو اسٹیٹ بینک کے ذخائر کا حصہ بن چکا ہے۔ چائنا ڈیولپمنٹ بینک نے 9 ارب آر ایم بی، بینک آف چائنا اور آئی سی بی سی نے 3، 3 ارب آر ایم بی فراہم کیے۔ ان قرضوں کی مدت تین سال رکھی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ معاہدے اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئے جب ایک مرحلے پر خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ چین 1.6 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط مؤخر کر دے گا، تاہم سفارتی کاوشوں سے معاملہ طے پا گیا۔

دوسری جانب، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی ایک ارب ڈالر کا غیر چینی کمرشل قرض گزشتہ ہفتے فراہم کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 20 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ ذخائر 2.7 ارب ڈالر کم ہو کر 9.1 ارب ڈالر رہ گئے تھے، تاہم حالیہ وصولیوں سے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قلت اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی کے باعث روپے پر دباؤ دوبارہ بڑھنے لگا ہے، جبکہ کمرشل بینکوں کو لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے چین کے ایکزم بینک سے رعایتی قرضوں اور ترجیحی خریدار قرضوں کی ری شیڈولنگ کی درخواست بھی دی تھی، تاہم چین نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق، غیر ملکی قرضوں پر بھاری انحصار اور زرمبادلہ ذخائر کی نازک صورتحال حکومتی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس پر فوری طور پر پائیدار معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے