اجلاس میں فیلڈ مارشل، سروسز چیفس اور وفاقی وزرا کی شرکت، ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی بھی شدید مذمت
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ایران کے دفاع کے حق کی بھرپور توثیق کی گئی۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان سمیت وفاقی وزراء اور اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، ایران پر اسرائیلی حملوں اور ان کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے غیرذمہ دارانہ اقدام ہیں جنہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان تعمیری مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا اور خطے میں کشیدگی کو سنگین حد تک بڑھا دیا ہے۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ کمیٹی نے ایرانی حکومت اور عوام سے معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
اعلامیے میں 22 جون کو فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان حملوں سے خطے میں بڑے پیمانے پر تنازع جنم لے سکتا ہے اور سفارت کاری کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بات چیت اور سفارتی ذرائع سے اس تنازعے کا پرامن حل نکالیں۔ اجلاس میں بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی مکمل پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
واضح رہے کہ اجلاس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا.
