ایران کا اسرائیل کی فضائی حدود کا کنٹرول حاصل کرنے اور ایف 35 طیارہ گرانے کا دعویٰ
صہیونی دہشت گرد ریاست پر اب رحم کا وقت ختم ہوچکا، اور سخت انتقامی کارروائی ناگزیر ہے:ایرانی سپریم لیڈر
تہران/یروشلم (ویب ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے "آپریشن وعدہ صادق سوم” کے تحت اسرائیل پر 11ویں بار میزائل اور ڈرونز کی یلغار کردی، جس میں پہلی مرتبہ جدید اور انتہائی طاقتور سیجل میزائل کا استعمال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور حیفہ پر داغے گئے یہ میزائل جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو انتہائی بلندی پر پرواز کے بعد اپنے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ داغے گئے درجنوں میزائلوں میں سے کئی اپنے ہدف پر کامیابی سے پہنچے۔
اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کی مکمل فعالیت کے باوجود، ایران کے جدید ہتھیار روکنے میں ناکام رہے اور تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں سائرن بجنے لگے، جس سے شہری بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے بھی جوابی فضائی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے ایران کے میزائل سسٹمز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے دفاعی نظام نے اسرائیلی حملوں کو بروقت ناکام بنایا اور کئی راکٹ اور میزائل فضا میں ہی تباہ کردیے۔
ایرانی وزارت انفارمیشن نے اسرائیل کی جانب سے متوقع سائبر حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کردی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں اور دفاعی تنصیبات کے تحفظ کے لیے یہ قدم ناگزیر تھا۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے "مقبوضہ فلسطین کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول” حاصل کرلیا ہے اور اسرائیل دفاعی نظام ایرانی حملوں کے سامنے بے بس ہوچکا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف باضابطہ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صہیونی دہشت گرد ریاست پر اب رحم کا وقت ختم ہوچکا، اور سخت انتقامی کارروائی ناگزیر ہے”۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا:
"جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور صہیونی ریاست اب رحم کی مستحق نہیں۔”
ان کے پیغام کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی، جس میں ایک شخص ہاتھ میں تلوار لیے قلعے کے دروازے میں داخل ہو رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تصویر خیبر کے قلعے کی فتح کی علامت ہے، جو اس بیان کو مذہبی اور تاریخی شدت عطا کر رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کے 20 سے زائد میزائل حملوں نے پورے اسرائیل میں ایمرجنسی کی کیفیت پیدا کردی ہے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور خطرناک جنگ کے دروازے کھول سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
