(تحریر: شوکت علی چھینہ)
ملک کا سالانہ بجٹ ہر سال سرکاری ملازمین، پارلیمنٹیرینز، عدلیہ اور عسکری اداروں کے لیے ایک خوش خبری کی مانند آتا ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ، الاؤنسز میں ترمیم، پنشن میں سہولت اور مراعات کی نئی فہرستیں بجٹ تقریر کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ مگر اس بجٹ کی کتاب میں ایک ایسا باب ہے جسے ہمیشہ بند رکھا جاتا ہے، اور وہ ہے پاکستان کے پرائیویٹ ملازمین اور مزدور طبقے کا باب — وہ لاکھوں لوگ جو کارخانوں، دفتروں، ورکشاپوں، ہوٹلوں، دکانوں، اور مارکیٹوں میں کام کرتے ہیں، مگر جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں، نہ ہی کوئی نمائندہ، اور نہ ہی کوئی سننے والا۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کل لیبر فورس کا صرف 8 سے 9 فیصد حصہ سرکاری ملازمتوں پر فائز ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ہر بجٹ میں اپنی تنخواہ اور مراعات بڑھوا لیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں فوج کے بجٹ میں تسلسل سے اضافہ کیا گیا۔ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں اور مراعات کئی بار بڑھائی گئیں۔ عدلیہ کے معزز جج صاحبان اور ان کے عملے کو ہر سہولت میسر ہے۔ حالیہ بجٹ میں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس بھی دیا جا رہا ہے۔
مگر دوسری طرف، نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ چاہے 30 ہزار ماہانہ کماتے ہوں یا 50 ہزار، نہ ان کے لیے کوئی تنخواہ بڑھتی ہے، نہ انہیں مہنگائی الاؤنس ملتا ہے، اور نہ ہی کوئی پنشن یا میڈیکل سہولت دستیاب ہے۔ آج ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کے کروڑوں مزدور اور ملازمین بجلی کے بل، گیس کے واجبات، بچوں کی فیس، اور راشن کے نرخوں کے نیچے دبے جا رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 75 فیصد ورک فورس پرائیویٹ شعبے میں کام کر رہی ہے، جن کا نہ کوئی مستقبل محفوظ ہے نہ حال۔
یہ وہ طبقہ ہے جو دن رات محنت کرتا ہے، فیکٹریوں میں پسینے بہاتا ہے، دفاتر میں کمپیوٹر کی سکرینوں سے آنکھیں خراب کرتا ہے، ہوٹلوں میں پلیٹیں دھوتا ہے، ورکشاپوں میں تپتی دھوپ میں گاڑیاں بناتا ہے اور دکانوں پر کھڑے ہو کر سارا دن خرید و فروخت میں گزار دیتا ہے۔ مگر ان کے لیے نہ کوئی سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے، نہ کوئی ریلیف پیکج آتا ہے، نہ ان کی کم سے کم تنخواہ کا نفاذ سنجیدگی سے ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حکومتی ادارہ ان کا پرسانِ حال بنتا ہے۔
ہر سال بجٹ کے بعد یہی سننے کو ملتا ہے کہ سرکاری ملازمین کو اتنے فیصد اضافہ ملا، فوج کا بجٹ اتنا بڑھا، جج صاحبان کی مراعات میں یہ اضافہ ہوا، اور پارلیمنٹیرینز کو نئی گاڑیاں اور دفتر ملے۔ کیا کبھی کسی نے یہ پوچھا کہ پرائیویٹ ملازمین اور مزدوروں کا کیا بنے گا؟ ان کے بچوں کی تعلیم، صحت، رہائش اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولتوں کا ذمہ دار کون ہے؟
سوال یہ ہے کہ جس ملک میں بجٹ کا سب سے بڑا حصہ فوج، بیوروکریسی، عدلیہ اور اسمبلیوں پر خرچ ہوتا ہو، اور جس میں ریلیف صرف ان طبقات کو ملے جو پہلے ہی مراعات یافتہ ہوں، وہاں ایک غریب پرائیویٹ ملازم کہاں جائے؟ کیا وہ سڑکوں پر احتجاج کرے، فاقے کرے، یا حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دے؟
اگر یہی روش رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں غربت، بےروزگاری، چوری، ڈاکے، خودکشیاں اور معاشرتی انحطاط اپنی انتہا کو چھو لے گا۔ جمہوریت اور مزدور دوستی کا راگ الاپنے والوں سے کوئی پوچھے کہ تمہاری اس "ویلفیئر سٹیٹ” میں تو نجی ملازمین کو تو مہینوں تنخواہیں نہیں ملتیں، اور جب ملتیں ہیں تو نہ مہنگائی کا حساب، نہ ضروریاتِ زندگی کا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پرائیویٹ ملازمین کے لیے بھی کم از کم تنخواہ کا مستقل اور مؤثر نظام وضع کرے، ان کے لیے میڈیکل، سوشل سیکیورٹی اور پنشن کا بندوبست کرے۔ بجٹ میں ان کا بھی حصہ ہو، ان کا بھی نام ہو، ان کے بچوں کے مستقبل کا بھی خیال ہو۔
کیونکہ صرف فوج، بیوروکریسی اور پارلیمنٹیرینز ہی نہیں، یہ ملک ان مزدوروں اور پرائیویٹ ملازمین کے سہارے بھی کھڑا ہے۔ اگر یہی طبقات مایوس ہو گئے، تو پھر یہ ملک چند طاقتور اداروں کی چار دیواری میں قید ہو کر رہ جائے گا، اور عام آدمی کا حال وہی ہو گا جو آج ہے — بے بسی، خاموشی اور استحصال۔
